ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت سے مذاکرات ناکام،کے ایس آرٹی سی اور بی ایم ٹی سی ملازمین نے کیا ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

حکومت سے مذاکرات ناکام،کے ایس آرٹی سی اور بی ایم ٹی سی ملازمین نے کیا ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

Mon, 14 Dec 2020 10:16:42    S.O. News Service

بنگلورو،14دسمبر(ایس او  نیوز)کرناٹک میں گزشتہ تین دن سے جاری کے ایس آر ٹی سی اور بی ایم ٹی سی بس ہڑتال اتوار کی شام واپس لینے کیلئے کی گئی بات چیت ناکام ہو گئی - حکومت کے سامنے ملازمین کی طرف سے رکھے گئے 12مطالبات میں سے کسی بھی بڑے مطالبے کو حکومت نے منظور نہیں کیا جس کے سبب ملازمین یونین کے لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے بعد یونین کے قائدین نے ہڑتال واپس نہ لینے کااعلان کردیا-

حالانکہ حکومت سے بات چیت کے فوراً بعد بنگلور و سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں بس خدمات کی بحالی کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن یونین کے دیگر قائدین سے بات چیت کے بعد یونین لیڈر چندرو نے اعلان کیا کہ حکومت نے چونکہ کلیدی مطالبہ کو تسلیم نہیں کیا ہے اس لئے ہڑتال جاری رہے گی-

اس سے قبل دن میں وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی ہدایت پر نائب وزیر اعلیٰ و وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن ساودی، وزیر محصولات آر اشوک اور وزیر داخلہ بسواراج بومئی نے ٹرانسپورٹ ملازمین کے یونین لیڈروں کو طلب کر کے ان سے کافی طویل بات چیت کی - اس بات چیت کے دوران حکومت نے ان ملازمین کے کلیدی مطالبہ کو ماننے سے انکار کردیا البتہ دیگر مطالبات کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنانے کا تیقن دیا- ان ملازمین کی کلیدی مانگ تھی کہ تمام کو سرکاری ملازمین کے طور پر جب تک تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں ہو گی- تاہم اس مطالبے کو حکومت کی طرف سے نا منظور کردیا گیا- لیڈروں سے میٹنگ کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن ساودی نے ملازمین کے ساتھ مصالحت کا اعلان کیا اوریقین ظاہر کیا کہ آج رات سے ہی بس سرویس بحال ہو جائے گی-

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان ملازمین کے ایک اہم مطالبہ کو مان لیا ہے کہ ان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کی جائے گی جو جنوری2020سے زیر التواء ہے اس کو جنوری 2021میں انجام دے دیا جائے گا- انہوں نے کہا کہ ملازمین کو چھٹے پے کمیشن کے حساب سے تنخواہ دینے کی مانگ کو حکومت نے تسلیم کرلیا ہے - ریاست کی معاشی صورتحال میں سدھار کے بعد اس کو عملی جامہ پہنایا جائے گا- ملازمین کی تربیتی مدت کو دوسال سے گھٹا کر حکومت نے ایک سال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے- ٹکٹ جاری نہ کر کے رقم بھی نہ لینے کے معاملات (این آئی این سی) کے متعلق کنڈکٹرو ں پرجرمانہ عائدکرنے کے ضابطہ پر روک لگانے پر حکومت نے رضامندی ظاہر کردی ہے- مختلف ڈپوز میں ملازمین کو ہراساں کئے جانے کی شکایات کا جائزہ لینے اور خاطی افسروں پر کارروائی کرنے پر حکومت نے رضامندی ظاہر کردی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ اس طرح کی ہراسانی نہ ہو اس کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا- ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں میں کارپوریٹ کام کا ماحول لانے کیلئے حکومت نے شعبہ ایچ آر قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے-

سرکاری ملازمین کا درجہ دینے کے کلیدی مطالبہ کے بارے میں لکشمن ساودی نے واضح طور پر اعلان کردیا کہ ریاست میں 50سے زائد سرکاری کارپوریشن موجود ہیں اگر ایک کارپوریشن کے ملازمین کو سرکاری ملازمین کا درجہ دینے کی مانگ کو تسلیم کیا جاتا ہے تو باقی کارپوریشنوں کی طرف سے بھی اسی طرح کی مانگ رکھی جا سکتی ہے - موجودہ مالی حالات کے تحت اس مطالبہ کو ماننا ممکن نہیں -

 لکشمن ساودی نے اعلان کیا کہ حکومت نے بس ملازمین کو واجب الادا بھتہ اور اوور ٹائم کی رقم یکم جنوری2021سے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی - کووڈ -19کے سبب مارے گئے ملازمین کو 30لاکھ روپے کا معاوضہ دینے اور تمام ملازمین کو آروگیہ سنجیونی اسکیم کے تحت ہیلتھ انشورنس دینے پر حکومت نے رضامندی ظاہر کی لیکن بات وہیں پر آکر اٹک گئی کہ تمام ملازمین کو سرکاری ملازمین کے طور پر تسلیم کیا جائے - اسی کو بنیاد بنا کر ان ملازمین نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے -

 ملازمین کے لیڈر چندرو نے فریڈم پارک میں قائدین سے بات چیت کے بعد اعلان کیا کہ حکومت کی طرف سے ان کے کلیدی مطالبات کو ماننے سے انکار کے بعد اب ہڑتال واپس لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا- انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر حکومت کو دوبارہ ملازمین کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی- 

دوسری جانب اس دوران حکومت کی طرف سے سرکاری بس کارپوریشن کے ملازموں کو سرکاری ملازمین کا درجہ دینے سے ریاستی حکومت کے انکار کے بعد ہڑتال جاری رکھنے ملازمین کے فیصلہ کی نجی بس مالکوں نے بھی مکمل تائید کا اعلان کردیا جس کے سبب نجی بسوں کی مدد سے بس خدمات جاری رکھنے کی حکومت کی کوششوں کوزبردست دھکا لگا-نجی بس مالکوں کی اسوسی ایشن کے صدر نٹراج نے فریڈم پارک میں سرکاری ملازمین کے احتجاج سے مخاطب ہو کر ان کی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان کردیا-


Share: